Close Menu
K2 Times | کے ٹو ٹائمزK2 Times | کے ٹو ٹائمز
    مقبول خبریں
    بین الاقوامی

    امریکی صدر کا 2 سے 3 ہفتوں میں ایران جنگ سے نکلنےکا اعلان

    اپریل 1, 2026
    خاص خبریں

    گرین پاکستان انیشیٹِو کے تحت جدید زرعی منصوبے تیزی سے کامیابی کی جانب گامزن

    اپریل 1, 2026
    خاص خبریں

    صدی کے اعلی ترین اعزاز "سنچری میرٹ آئی کون” کے عالمی انتخاب میں پروفیسر ڈاکٹر اورنگ زیب حافی کی واضح برتری

    اپریل 1, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    اپریل 1, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    K2 Times | کے ٹو ٹائمزK2 Times | کے ٹو ٹائمز
    رابطہ کریں کےٹو ٹی وی
    • صفحہ اول
    • قومی خبریں
    • ہزارہ
    • پوٹھوہار
    • گلگت بلتستان
    • چترال
    • شوبز
    • دلچسپ و عجیب
    • کھیل
    • کےٹو ٹی وی
    KAY2 TV
    K2 Times | کے ٹو ٹائمزK2 Times | کے ٹو ٹائمز
    You are at:Home»خاص خبریں»صدی کے اعلی ترین اعزاز "سنچری میرٹ آئی کون” کے عالمی انتخاب میں پروفیسر ڈاکٹر اورنگ زیب حافی کی واضح برتری
    خاص خبریں اپریل 1, 2026

    صدی کے اعلی ترین اعزاز "سنچری میرٹ آئی کون” کے عالمی انتخاب میں پروفیسر ڈاکٹر اورنگ زیب حافی کی واضح برتری

    اپریل 1, 20268 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    ڈاکٹر فاطمہ خان (نیو یارک): حالیہ بین الاقوامی اطلاعات کے مطابق معروف ادارۂ درجہ بندی ‘امپیکٹ ہال مارکس©️Impact Hallmarks’ نے ہمارے عہد کے ممتاز اور بلند آہنگ ‘پچیس سالہ عالمی نقوش قابلیت’ کے جریدہ ‘کوارٹی سینٹینیل میرٹڈ امپیکٹ گزٹ Quarticentennial Merited Impacts Gazette (2000-2025)’ کے لیے 195 ممالک کی تقریباً 1.9 ملین موثر شخصیات میں سے 181 افراد کی Century Merit Icons یعنی ‘ رواں صدی کے نقوش قابلیت’کے طور پر بین العلاقائی و بین الشعبہ جاتی نامزدگیوں کا اعلان کیا ہے۔ ان میں جنوبی ایشیا، مشرق وسطی اور چین سے بھی کم و بیش 28 شخصیات شامل ہیں۔

    ‘نقوش قابلیت’ کی درجہ بندی کے اس پچیس سالہ عالمی انتخابی عمل میں بر اعظم ایشیا کے فکری و علمی، نیز تحقیقی و سائنسی افق پر کندہ ایک نمایاں ‘نقش’، پاکستان کے آرچ ریسرچر پروفیسر ڈاکٹر اورنگزیب حافی ہیں— 90 سے زائد جدید و قدیم علوم میں محققانہ نقوش ثبت کرنے والی ایک ایسی ہمہ جہت، ہمہ گیر اور متنوع شخصیت جس کا کام کسی لگی بندھی درجہ بندی میں نہیں سماتا — انہیں محض سائنسدان یا علوم جدیدہ کا محقق کہنا درست تو ہوگا مگر ناکافی — انہیں ‘پولی میتھ Polymath’ (جامع العلوم) کہنا حقیقت کے قریب ہے، مگر پھر بھی یہ ان کی علمی و فکری وسعت کا محض ایک استعارہ ہے۔ ان کا تحقیقاتی و فکری ڈھانچہ آفاقیات (Cosmology)، اولیات(Primordiology), ماحولیاتی سائنس(Environmental Science)، حیاتیاتی نظام، ٹاکسیکولوجی(Toxicology)، پبلک ہیلتھ ماڈلنگ، اور فیجیٹل پیڈاگوجکس Phygital Pedagogics تک پھیلا ہوا ہے— پروفیسر حافی کے اب تک کی پوسٹ ڈاکٹورل پینل ڈائیلاگز اور تھیمیٹک بیس لائن نوٹس و لیکچرز کا جدید علمی تناظر میں جائزہ لیا جائے تو ایک محتاط اندازے کے مطابق کم و بیش 93 علوم و فنون کے وہ شعبے جن کا وہ صرف علمی جائزہ نہیں لیتے، بلکہ انہیں اعلی تحقیقاتی سطح پر ایک دوسرے میں پیوست کر کے نئے نتائج اخذ کرتے ہیں، انکے کثیرالجہتی رسوخ اور بین الشعبہ جاتی تنوع نیز بین المناہجی تعمق کی دلیل ہیں۔

    ان کے بنیادی تحقیقاتی فریم ورکس — جیسے میگنیٹو ہائیڈرو ٹروپزم (MHT)، جو مقناطیسی میدانوں اور حیاتیاتی شعبوں کے باہمی تعلق کو تلاش کرتا ہے، اور IRT ٹیراٹو کائینیٹکس ماڈل، جو ماحولیاتی محرکات کے ذریعے بچوں میں ذہنی و جسمانی معذوریوں اور مضر اثرات کی حامل ادویات سے جڑے نقائص کا جائزہ لیتا ہے— مختلف علمی شعبوں کے درمیان حائل دیواروں کو گرانے کی مستقل کوشش کا ثبوت ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، ان کے تحقیقاتی کام نے اس عہد کے چند سنگین بحرانوں کو نہ صرف Identify کیا ہے بلکہ اس کے موثرحل کے لیےاساسات مہیاکی ہیں: جیسے محدود وسائل والے علاقوں میں کورونا COVID-19 کے پھیلاؤ سے تحفظ کی ماڈلنگ، صنعتی دور میں ماحولیاتی زہریلے پن کی میپنگ، اور کمزور آبادیوں کے لیے صحتِ عامہ کے خطرات کے پیشگی وارننگ فریم ورک تیار کرنا۔

    تاہم ان کا کام صرف نظریہ یا لیبارٹری کی تجرید تک محدود نہیں ہے۔ 2004 کے سونامی کے دوران میں، وہ سری لنکا میں انسانی ہمدردی کے مشکل ترین میدان میں اترے اور ‘چائلڈ ریٹارڈیشن رسک اسیسمنٹ’ (CRRA) پروگراموں کی قیادت کی۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی سائنسی برادری دور بیٹھ کر ڈیٹا جمع کر رہی تھی، انہوں نے خطرناک علاقوں میں براہِ راست فیلڈ ورک کیا—ہمارے عہد کی ایسی نادر المثال جمود شکنی کی مثال، جو نہ صرف نتائج کو مستند بناتی ہے بلکہ بحرانی حالات میں تحقیق (Crisis Surveillance Pedagogics) کے جمود شکن طریقوں کو بھی نئی بنیادیں فراہم کرتی ہے ۔ پروفیسر اورنگزیب حافی کی اس جمود شکنی کے اعتراف میں انہیں ‘ڈی جیور’ (De Jure) سپریم نائٹ ہڈ(Supreme Knighthood ) جیسے تاریخی اعزاز سے نوازا گیا؛ بعدازاں انہیں نوبل پرائز کے لیے بھی نامزد کیا گیا لیکن نوبل پرائز کی فنڈنگ کے ذرائع پربعض اخلاقی نوعیت کے بنیادی تحفظات اور سنگین اعتراضات کی بنا پر 2006 میں نوبل انعام کی نامزدگی کو مسترد کرنے کا فیصلہ شاید اس سے بھی زیادہ قد آور تھا۔ بعد ازاں انہیں یونیسکو-سارک اکیڈمک الائنس کی طرف سے Pride of Asia کے خطاب، نیز مشرق وسطی کے پوسٹ ڈاکٹورل اداروں میں ‘ہمالہ علم’ اور ‘محقق الافخم’ جیسےنادر القاب سے بھی نوازا گیا۔

    آرج پولی میتھ پروفیسر اورنگزیب حافی کے تحقیقاتی اقدامات کا دائرہ مسلسل پھیل رہا ہے۔ تحفظِ حیاتیات (Biological Conservation) میں ان کا کام اب ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی گہری حکمت عملیوں سے جڑا ہوا ہے، جس میں موجودہ دور کے رائج Sewage- Drainage System کی وجہ سے زیر زمین پانی کے ذخائر کو زہریلا ہونے Sub-Soil Hydro-Toxicification سے بچانے کے لیے عوامی سطح کے ماڈلز تجویز کیے گئے ہیں۔ تعلیم کے میدان میں، ان کا ‘AZH ڈیکا آرکک فجیٹل لٹریسی ماڈل’ AZH Deca-Archic Phygital Literacy Model طبعی اور ڈیجیٹل تعلیم کے درمیان خلیج کو ختم کرنے کا تاریخ ساز تحقیقی کام ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل پبلک ہیلتھ اور نوجوانوں کے علمی پلیٹ فارمز میں بھی گراں قدر حصہ ڈالا ہے— ایسے اقدامات جو علم کو محض ایک جامد مجموعہ معلومات نہیں بلکہ ایک متحرک اور بانٹنے والی قوت سمجھتے ہیں۔اسی تنوع علمی کی وجہ سے دولت مشترکہ کی یونیورسٹی کے اعلی علمی حلقوں میں پروفیسر صاحب کو ایک Personified University یعنی ایک ‘مجسم جامعہ’ اور ‘چلتی پھرتی Encyclopedic Reference Library کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا۔

    پروفیسر اورنگ زیب حافی کے ہمراہ جنوبی ایشیا کے اس زرخیز خطے میں ان مفکرین اور مصلحین کا جھرمٹ ہے جن کا کام سائنسی جستجو کے معنی وسیع کر رہا ہے۔ فلکی حیاتیات کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر چندرا وکرماسنگھے آفاقی گرداور شہاب ثاقب کے ذریعے زندگی کی منتقلی (Panspermia) پر اپنے کام کے ذریعے انسانیت کو زندگی کے آغاز پر دوبارہ غور کرنے کی دعوت دے رہے ہیں۔

    ڈاکٹر آشا ڈی ووس نے سمندری سائنس میں نیلی وہیل کی نئی آبادیوں کی نشاندہی کر کے پرانے نظریات کو چیلنج کیا ہے۔ چین سے شنگ تنگ یاؤ (Shing-Tung Yau) کا کام سامنے آتا ہے، جس نے خلا اور جیومیٹری کی تفہیم بدل کر رکھ دی ہے۔ تبگ یاو کا کالبائی قیاس (Calabi Conjecture) کا حل جدید نظریاتی طبیعیات کا سنگِ بنیاد ہے۔ سائنسی گروہ میں ڈاکٹر فاطمہ بے نظیر جے اور نتیش کمار جانگیر جیسے تکنیکی ماہرین بھی شامل ہیں، جن کا کام لاکھوں انسانوں کی جانیں بچانے کا وسیلہ بن رہا ہے۔

    لیکن یہ کہانی صرف سیاروں یا لیبارٹریوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی وقار کے اس دشوار گزار رستے پر بھی چلتی ہے جہاں چن سی (Chen Si) دہلیز پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے، وہ نانجنگ پل پر پہرہ دے رہے ہیں، جہاں مایوس لوگ اپنی زندگیوں کا چراغ گل کرنے آتے ہیں۔ وہ روزانہ وہاں موجود رہتے ہیں، سنتے ہیں، اور انسانی دکھ کی اس زبان کو پڑھتے ہیں جو ابھی لفظوں میں ڈھلی نہیں ہوتی۔ ان کی مداخلتیں محض ڈرامائی بچاؤ نہیں، بلکہ ہمدردی اور مستقل دیکھ بھال کی ایک داستان ہیں۔ ان کی موجودگی میں زندگی اور موت کے درمیان کی لکیر ایک بار پھر مٹ جاتی ہے۔ وہ انسانیت کی نئی تعریف کر رہے ہیں—صرف دور دراز کی امداد کے طور پر نہیں، بلکہ قربت اور توجہ کے طور پر۔

    اسی طرح پروفیسر یونس اور ڈاکٹر امجد ثاقب نے ہمدردی کو معاشی نظام کا حصہ بنا دیا ہے: یونس نے اپنے انقلابی ‘اسٹرگلنگ ممبرز پروگرام’ کے ذریعے مالیات کی دیواریں گرائیں، جبکہ ثاقب نے ‘اخوت’ کے ذریعے سود سے پاک مائیکرو فنانس کا دنیا کا سب سے بڑا نیٹ ورک قائم کیا۔ کیلاش ستیارتھی، پشپا بسنیٹ اور پروین سعید ان لوگوں کو وقار دے رہے ہیں جنہیں معاشرہ نظر انداز کر دیتا ہے۔ ڈاکٹر جہان پریرا مکالمے کے ذریعے امن کی نئی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔
    دوسری جانب، عزم و ہمت کی ایک حیرت انگیز تصویر ارونیما سنہا کی ہے، جس نے ایک معذوری کے باوجود ماؤنٹ ایورسٹ سر کر کے انسانی عزم کی نئی حدیں مقرر کیں۔ چین سے، یی جی فینگ نے اپنے ذاتی دکھ کو بنجر زمینوں کو سرسبز جنگلوں میں بدلنے کے مشن میں ڈھال لیا ہے۔ اور پھر، سب سے کم عمر آوازیں—عبیدہ الفضہ حافیہ (11 سال) اور ان کے بھائی غلام بشر حافی (13 سال) سامنے آتے ہیں، جن کی "بے زبانوں کی آواز” (Voice for the Voiceless) مہم نے اپنے خون سے لکھی گئی قراردادوں کے ذریعے جنگ زدہ علاقوں، خصوصا غزہ و فلسطین میں بچوں کی مظلومیت کو عالمی ضمیر کے دروازے پر ایک ‘مجسم دستاویز ی دستک’ بنا دیا ہے۔

    تاریخی توارث (Legacy) کے عکس میں، یہ بیانیہ گہرا ہو جاتا ہے۔ بلقیس ایدھی ہمدردی کا وہ استعارہ ہیں جن کا ‘جھولا’ سکیم کا اقدام آج بھی ہزاروں بچوں کو لاوارث مرنے سے بچا رہا ہے۔ ان کے ساتھ، ڈاکٹر روتھ فاؤ اور اے ٹی اریارتنے انسانیت کے پائیدار اخلاقی ستون بن کر کھڑے ہیں۔

    20 ایشیائی افراد کے اس متنوع گروہ کو جو چیز جوڑتی ہے وہ جغرافیہ نہیں بلکہ ایک ‘بھرپورموثریت’ (Impactfulness) ہے—جسے نمائش و شہرت سے نہیں، بلکہ استحکام معیار و قابلیت سے ناپا جاتا ہے۔

    ویب سائٹ www.impacthallmarks.org پر ووٹنگ کا آغاز ہو چکا ہے، جس کے ذریعے عام شہریوں کو اس عظیم الشان عالمی غور و فکر کا حصہ بننے کی دعوت دی گئی ہے۔ کیونکہ یہ عالمی گزٹ صرف ایک ریکارڈ نہیں کہ کون اہم تھا — بلکہ یہ ایک آئینہ ہے جو ہمارے عہد کے سامنے رکھا گیا ہے—جو ترقی کے ساتھ ساتھ مقصد اور اقدار کی بھی عکاسی کرتا ہے؛ یعنی —21 ویں صدی کا ‘رفعت و راستی کا آئینہ’۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleرزاق خان کے ماہیے اور ٹپے مقبول، ناظرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ
    Next Article گرین پاکستان انیشیٹِو کے تحت جدید زرعی منصوبے تیزی سے کامیابی کی جانب گامزن
    Idrees
    • Website

    Related Posts

    امریکی صدر کا 2 سے 3 ہفتوں میں ایران جنگ سے نکلنےکا اعلان

    اپریل 1, 2026

    گرین پاکستان انیشیٹِو کے تحت جدید زرعی منصوبے تیزی سے کامیابی کی جانب گامزن

    اپریل 1, 2026

    سلیم سیف اللہ خان کی گورنر خیبرپختونخوا تعیناتی کا امکان

    اپریل 1, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    تازہ ترین خبریں
    بین الاقوامی

    امریکی صدر کا 2 سے 3 ہفتوں میں ایران جنگ سے نکلنےکا اعلان

    اپریل 1, 2026
    خاص خبریں

    گرین پاکستان انیشیٹِو کے تحت جدید زرعی منصوبے تیزی سے کامیابی کی جانب گامزن

    اپریل 1, 2026
    خاص خبریں

    صدی کے اعلی ترین اعزاز "سنچری میرٹ آئی کون” کے عالمی انتخاب میں پروفیسر ڈاکٹر اورنگ زیب حافی کی واضح برتری

    اپریل 1, 2026
    شوبز

    رزاق خان کے ماہیے اور ٹپے مقبول، ناظرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ

    اپریل 1, 2026
    • Facebook
    • YouTube
    • Twitter
    • Instagram
    نمایاں خبریں
    اپریل 15, 2024

    پنجاب بائیک سکیم: آن لائن رجسٹریشن کیسے کریں؟ مرحلہ وار گائیڈ چیک کریں

    خاص خبریں

    پنجاب حکومت نے ریجن کے طلباء کو بلاسود ماہانہ اقساط پر موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن…

    خاص خبریں

    سلیم سیف اللہ خان کی گورنر خیبرپختونخوا تعیناتی کا امکان

    اپریل 1, 2026
    اسلام آباد

    معروف ٹک ٹاکر ثنا جاوید عرف آوٹ لوفرہ کو اسلام آباد میں قتل کردیا گیا

    مارچ 22, 2026
    ایڈیٹر کا انتخاب
    خاص خبریں

    پنجاب بائیک سکیم: آن لائن رجسٹریشن کیسے کریں؟ مرحلہ وار گائیڈ چیک کریں

    اپریل 15, 2024
    خاص خبریں

    پنجاب میں 50,000 گھروں کے لیے مفت سولر پینل! کیا آپ درخواست دینے کے اہل ہیں؟ یہاں چیک کریں!

    اپریل 16, 2024
    خاص خبریں

    ایبٹ آباد میں لاپتہ لیڈی ڈاکٹر وردہ کی لاش چار دن بعد برآمد، ڈاکٹروں کا احتجاج

    دسمبر 8, 2025
    مقبول خبریں
    بین الاقوامی

    امریکی صدر کا 2 سے 3 ہفتوں میں ایران جنگ سے نکلنےکا اعلان

    اپریل 1, 2026
    خاص خبریں

    گرین پاکستان انیشیٹِو کے تحت جدید زرعی منصوبے تیزی سے کامیابی کی جانب گامزن

    اپریل 1, 2026
    خاص خبریں

    صدی کے اعلی ترین اعزاز "سنچری میرٹ آئی کون” کے عالمی انتخاب میں پروفیسر ڈاکٹر اورنگ زیب حافی کی واضح برتری

    اپریل 1, 2026

    نئے فالو اپ کے ساتھ

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

    .K2Times © 2026. All Rights Reserved

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.