مظفرآباد: 14 اور 15 اکتوبر 1947 کو ڈوگرہ اقتدار کے خلاف کشمیریوں کی مزاحمت تحریک آزادی کشمیر کا اہم باب بنی۔
تحریک آزادی کشمیر قیام پاکستان کے وقت سے ہی کشمیری مسلمانوں کی سیاسی امنگوں اور پاکستان سے الحاق کی جدوجہد سے جڑی ہوئی تھی۔
19 جولائی 1947 کو آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے پاکستان سے الحاق کی قرارداد منظور کر کے کشمیری مسلمانوں کی سیاسی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
مہاراجہ کے بھارت سے الحاق کے عزائم اور ڈوگرہ فورسز کے مظالم کے خلاف کشمیری عوام کی جدوجہد نے ان کی مزاحمت کو مزید منظم کیا۔
اکتوبر 1947 میں سرساوہ اور کوٹلی کے گرد و نواح میں مقامی کشمیریوں اور سابق فوجیوں نے ڈوگرہ افواج کے خلاف مزاحمت میں حصہ لیا۔
راجہ سخی دلیر خان نے سرساوہ اور کوٹلی میں ڈوگرہ راج کے خلاف جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا اور فاتح کوٹلی کے نام سے پہچانے گئے۔
سرساوہ کی جغرافیائی اہمیت نے اسے ڈوگرہ افواج کے خلاف مزاحمت کا اہم محاذ بنایا.
یہاں کی کامیابی نے تحریک آزادی کشمیر کی جدوجہد کو مزید تقویت دی۔


