Close Menu
K2 Times | کے ٹو ٹائمزK2 Times | کے ٹو ٹائمز
    مقبول خبریں
    صحت

    نیپاہ وائرس کا خدشہ، پاکستان میں مختلف اداروں کو الرٹ جاری

    جنوری 30, 2026
    پنجاب

    بھاٹی گیٹ کے واقعے اور قتل میں کوئی فرق نہیں، ہر سطح پر مجرمانہ فعل ہوا ہے: وزیرِ اعلیٰ پنجاب

    جنوری 30, 2026
    خاص خبریں

    وزیراعظم کا صنعتوں کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان

    جنوری 30, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جنوری 30, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    K2 Times | کے ٹو ٹائمزK2 Times | کے ٹو ٹائمز
    رابطہ کریں کےٹو ٹی وی
    • صفحہ اول
    • قومی خبریں
    • ہزارہ
    • پوٹھوہار
    • گلگت بلتستان
    • چترال
    • شوبز
    • دلچسپ و عجیب
    • کھیل
    • کےٹو ٹی وی
    KAY2 TV
    K2 Times | کے ٹو ٹائمزK2 Times | کے ٹو ٹائمز
    You are at:Home»بلاگ»صنعتی ایمرجنسی: قومی معیشت کا نوحہ: ڈاکٹر حمیرا عنبرین
    بلاگ جنوری 30, 2026

    صنعتی ایمرجنسی: قومی معیشت کا نوحہ: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    جنوری 30, 20268 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    This photograph taken on February 25, 2017, shows a Pakistani worker watching smoke rising from factories on the outskirts of the northwestern city of Peshawar. - Pakistan's cities are gasping for clean air amid dire warnings from the World Bank, but officials say they are helpless to combat the looming calamity due to a lack of basic data. The fast-growing country is home to some 200 million people and suffers from some of the worst air pollution in the world, thanks to its giant population plying poorly maintained vehicles on the roads and unchecked industrial emissions. (Photo by ABDUL MAJEED / AFP) / TO GO WITH 'PAKISTAN-ENVIRONMENT-POLLUTION-AIR', FOCUS BY MASROOR GILANI
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    پاکستان کی معیشت اس وقت جس سنگین بحران سے دوچار ہے، اس کی مثال حالیہ تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری، تجارتی خسارے اور زرِمبادلہ کی کمی تو مستقل چیلنجز رہے ہی ہیں، مگر ان سب سے بڑھ کر جو خطرناک پہلو ابھرا ہے وہ صنعتی زوال پذیری ہے۔ یہ وہ معاشی و معاشرتی سانحہ ہے جو خاموشی سے روزگار کے دروازے بند کر رہا ہے، ایک ایسے وقت میں جب آبادی کی بڑھتی ہوئی شرح ہر ماہ ہزاروں نئے روزگار کے تقاضے سامنے لا رہی ہے۔ ایسے میں صنعتی پیداوار کا سکڑنا کسی قومی آفت سے کم نہیں۔

    ایسے میں جب کوئی بھی پالیسی ساز، فیصلہ ساز یا محقق اس المیے پر نگاہ ڈالے، تو اسے اس بات سے انکار ممکن نہیں ہوگا کہ صنعتی بحران محض کسی وقتی سست روی کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک ساختیاتی بحران ہے جس نے کئی دہائیوں کے غلط فیصلوں، مسلسل نظراندازی اور ادارہ جاتی ناہمواریوں سے جنم لیا ہے۔ ایس ایم تنویر جیسے ماہرین کی جانب سے بارہا توجہ دلائی گئی کہ اگر ہم نے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو یہ بحران ناقابلِ واپسی رخ اختیار کر سکتا ہے۔

    حالیہ رپورٹس کے مطابق ملک بھر میں 100 سے زائد اسپننگ ملز، 400 جیننگ فیکٹریاں اور 150 ٹیکسٹائل یونٹس بند ہو چکی ہیں۔ صرف فیصل آباد یا کراچی جیسے صنعتی مراکز ہی نہیں بلکہ ملک بھر کی ایس ایم ایز بھی اس تباہی کی لپیٹ میں ہیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ صنعتی مزدور ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں کہ کسی طور روزگار حاصل ہو، بیروزگاری کے سرکاری اعداد و شمار 7.1 فیصد بتائے جاتے ہیں، مگر زمینی حقائق اس سے کہیں زیادہ ہولناک ہیں۔ جب ایک صنعت بند ہوتی ہے تو صرف اس کے گیٹ کے اندر کام کرنے والے نہیں بلکہ پورا سپلائی چین متاثر ہوتا ہے۔ روئی اگانے والا کسان، کاغذ مہیا کرنے والا سپلائر، لوہا پگھلانے والے کارخانے، سب کچھ رفتہ رفتہ زوال کا شکار ہو رہے ہیں۔
    ایس ایم تنویر نے بالکل درست نشاندہی کی ہے کہ انڈسٹری کو صرف ٹیکس، بجلی اور سود کی مار نہیں بلکہ اعتماد کے فقدان نے بھی توڑ کر رکھ دیا ہے۔ جب پالیسی ہر چند مہینوں میں تبدیل ہوتی ہے، جب این او سی کے لیے 36 اداروں کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں، جب کاروباری لاگت ہمسایہ ممالک سے 34 فیصد زیادہ ہو، تو کون سرمایہ کاری کرے گا؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب صرف انکار میں نہیں بلکہ قومی اقتصادی خودکشی کی گواہی میں ملتا ہے۔

    صنعتی بحران کی اصل بنیاد تین بڑے مسائل میں جڑی ہوئی ہے: بجلی کے ناقابل برداشت نرخ، سود کی بلند شرح، اور ظالمانہ ٹیکس نظام۔ ایس ایم تنویر کے مطابق، پاکستان میں بجلی کے نرخ 9 سینٹ فی یونٹ ہونے کے بجائے 17 سینٹ تک جا پہنچے ہیں، جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ حکومت 131 ارب روپے کی کراس سبسڈی انڈسٹری سے وصول کر رہی ہے تاکہ گھریلو صارفین کو سستی بجلی دی جا سکے۔ اگرچہ غریب طبقے کو ریلیف دینا ریاست کی ذمے داری ہے، لیکن اس ریلیف کی قیمت ایک ایسی معیشت ادا کر رہی ہے جو پہلے ہی بحران کے دہانے پر ہے۔ جب صنعت ہی نہیں بچے گی، تو صارف بھی نہ بجلی کے بل دے سکے گا، نہ ٹیکس، اور نہ ہی روزگار حاصل کر سکے گا۔

    اسی طرح سود کی شرح 22 فیصد سے کم ہو کر 10.5 فیصد ہوئی ہے، مگر اس کے باوجود یہ شرح اس وقت کی معاشی صورتحال میں بھی کاروباری بقاء کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ ایس ایم تنویر نے برملا کہا کہ "جب ہمارا سی پی آئی 2.7 فیصد ہو تو سود کی شرح 10 فیصد کیوں؟”۔ یہاں سوال صرف شرح کا نہیں بلکہ اس پالیسی سوچ کا ہے جس میں صنعت کو تحریک دینے کی بجائے اس کا دم گھونٹنے کی روش اختیار کی گئی ہے۔ جب صنعت کے لیے قرض مہنگا ہو گا تو نئی سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اپگریڈیشن اور ملازمتوں کی تخلیق محض خواب رہ جائیں گے۔

    ٹیکس کے نظام کی بات کی جائے تو پاکستان میں مجموعی ٹیکس بوجھ 50 سے 55 فیصد تک جا پہنچا ہے، جو دنیا کے ان چند ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں ٹیکسز ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن چکے ہیں۔ صنعتکار اگر منافع کمائے تو اسے آدھے سے زائد منافع ٹیکس میں دینا ہوتا ہے، اور اگر نقصان کرے تو ٹیکس کے باوجود مزید جرمانے اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مزید برآں، انڈسٹری پر نافذ مختلف اداروں کا کنٹرول بھی بحران کی جڑ ہے۔ ایس ایم تنویر کی نشاندہی کے مطابق، ایک کاروباری فرد کو 36 سرکاری محکموں سے این او سی حاصل کرنا پڑتا ہے، جو نہ صرف وقت کا ضیاع ہے بلکہ کرپشن اور بے جا تاخیر کی وجہ بھی۔

    ایس ایم تنویر کے بیانیے میں ایک اور پہلو شدت سے ابھرتا ہے، اور وہ ہے "پالیسی کا عدم تسلسل”۔ پچھلی حکومتوں نے 3 فیصد سود پر قرضہ اسکیم شروع کی، صنعت نے اس سے فائدہ اٹھایا، برآمدات 19 ارب ڈالر سے بڑھ کر 28 ارب ڈالر تک جا سکتی تھیں، مگر جیسے ہی حکومت بدلی، اسکیم بند، سود بڑھا، اور بجلی مہنگی — نتیجہ یہ کہ صنعت جو پرواز بھرنے کو تھی، وہ زمین پر آگری۔ ان کی یہ بات محض شکایت نہیں بلکہ اس حقیقت کا اظہار ہے کہ پاکستان میں طویل المدتی صنعتی پالیسی کا شدید فقدان ہے۔

    موجودہ بحران صرف صنعتکار تک محدود نہیں رہا، بلکہ کسان، مزدور، سپلائر، SME، اور تمام پیداواری زنجیر متاثر ہو چکی ہے۔ کسان کپاس اگا نہیں پا رہا کیونکہ جننگ فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں، SME سیکٹر کو آرڈرز نہیں مل رہے کیونکہ بڑے یونٹس ہی بند ہو گئے ہیں، اور اس تمام عمل نے ملک میں بے روزگاری کا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار اگرچہ 7.1 فیصد بے روزگاری کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن گراؤنڈ پر حقائق اس سے کہیں زیادہ خوفناک ہیں — لوگ فیکٹریوں کے باہر منت سماجت کر رہے ہیں کہ انہیں 25 ہزار روپے کی نوکری دے دی جائے۔

    یہ بحران صرف معاشی نہیں، سماجی بحران کی شکل بھی اختیار کر چکا ہے۔ جب معیشت کی گاڑی رک جاتی ہے تو ہر پہیہ، ہر پرزہ، ہر انجینئر اور مزدور رک جاتا ہے۔ اور جب صنعت رکتی ہے تو سرمایہ باہر بھاگتا ہے۔ اس وقت دبئی اور دیگر ملکوں میں پاکستانی سرمایہ کار پناہ لے چکے ہیں۔ ایس ایم تنویر کا کہنا بالکل بجا ہے کہ "جب لوکل سرمایہ کار سرمایہ نہیں لگا رہا تو فارن انویسٹر کیوں لگائے گا؟”۔

    اس تناظر میں، ان کی یہ بات کہ پاکستان کو انڈسٹریل ایمرجنسی کی ضرورت ہے، محض ایک مطالبہ نہیں بلکہ ایک قومی بقاء کی پکار ہے۔ ایس ایم تنویر نہ صرف مسائل کی تشخیص کر رہے ہیں بلکہ حل بھی دے رہے ہیں — جیسے کہ نئی صنعتوں کو سستی بجلی دی جائے، سولر انرجی کے لیے وھیلنگ ایگریمنٹس کیے جائیں، 10 تا 15 سال کی پائیدار انڈسٹریل پالیسی تشکیل دی جائے، اور سب سے اہم یہ کہ حکومت تاجروں، صنعتکاروں، اور ماہرین معیشت کے ساتھ بیٹھ کر قومی فیصلے کرے۔

    اس تمام بحث کا خلاصہ یہی ہے کہ پاکستان کے لیے صنعتی ایمرجنسی کسی آپشن کا نام نہیں بلکہ ایک ناگزیر فیصلہ بن چکا ہے۔ یہ محض کوئی نعرہ نہیں بلکہ قومی بقا کی ضمانت ہے۔ ایس ایم تنویر جیسے باشعور اور بصیرت افروز رہنماؤں نے جو بار بار چیخ چیخ کر کہا کہ ہمیں سنجیدہ صنعتی پالیسی کی ضرورت ہے، وہ صرف ایک گروہ کے مفاد کی بات نہیں کر رہے تھے بلکہ وہ اس پوری معیشت کا نوحہ لکھ رہے تھے جو دن بہ دن مرجھا رہی ہے۔
    آج جب امریکہ نے پاکستان کو بھارت سے بہتر ٹیرف مہیا کیا، جب بنگلہ دیش کی صنعتیں اندرونی بحران کا شکار ہوئیں، تو ہمارے لیے عالمی تجارت میں جگہ بنانے کا موقع تھا، مگر ہم اس وقت توانائی، سود اور ٹیکس کے گرداب میں پھنسے رہے۔ ہماری ریاست اور قیادت کو اس موقع کو صنعتی احیا میں بدلنے کی توفیق نہ ہو سکی۔ اور اب حالت یہ ہے کہ ہر ہفتے انڈسٹری کی ایک نئی قبر بنتی ہے۔

    پاکستان کے پاس سب کچھ ہے: مزدور، مارکیٹ، خام مال، جغرافیہ، لیکن جو نہیں ہے وہ فیصلہ سازی کی جرات، پالیسی کا تسلسل اور کاروباری ماحول کی فراہمی ہے۔ ایس ایم تنویر جیسے افراد، جو مسائل کی تہہ میں جا کر تجزیہ کرتے ہیں، صرف تنقید نہیں کرتے بلکہ حل تجویز کرتے ہیں، ان کی آواز کو سننا حکومت کا فرض ہے۔

    آج ہمیں صرف ایک industrial emergency نہیں بلکہ ایک ذہنی اور انتظامی ایمرجنسی کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس فلسفے سے نکلنا ہے کہ "جو کچھ ہے بس اتنا ہی ممکن ہے”، اور داخل ہونا ہے اس جہت میں جہاں ریاست معیشت کی گاڑی کو صرف چلاتی نہیں بلکہ دوڑاتی ہے۔ جب تک ہم صنعت کو ملکی سلامتی کے مترادف نہیں سمجھیں گے، تب تک نہ برآمدات بڑھیں گی، نہ روزگار پیدا ہوگا، نہ غربت کم ہوگی۔

    ایمرجنسی اب صرف وقت کی بات نہیں، یہ فیصلہ ہے کہ ہم قوم بننا چاہتے ہیں یا تماشائی۔ اور اگر ہم نے اب بھی کان نہ دھرے تو شاید آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہ کریں۔ اس لیے، صنعتی ایمرجنسی کو ایک معاشی تحریک بنانا ہوگا۔ اور اس تحریک کا آغاز قیادت، نیت اور پالیسی کے اتحاد سے ہوگا۔ وقت آگیا ہے کہ ہم ایس ایم تنویر جیسے وژنری رہنماؤں کی بات سنیں، سمجھیں اور عمل کریں — ورنہ وقت خود ہم پر فیصلہ سنا دے گا۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان 14 سال بعد براہِ راست فضائی رابطے بحال
    Next Article پہلا ٹی ٹوئنٹی: پاکستان نے آسٹریلیا کو 22 رنز سے شکست دےدی
    Idrees
    • Website

    Related Posts

    پاکستان اور موسمیاتی تبدیلی: ایک سنگین چیلنج

    اگست 25, 2025

    گلگت کی دو ہجرتیں: تحریر ہدایت اللہ اختر

    اگست 23, 2025

    کراچی بارش میں نہیں، حکومتی نااہلی کے سمندر میں ڈوب گیا.تحریر: شیر علی انجم

    اگست 20, 2025
    Leave A Reply Cancel Reply

    تازہ ترین خبریں
    صحت

    نیپاہ وائرس کا خدشہ، پاکستان میں مختلف اداروں کو الرٹ جاری

    جنوری 30, 2026
    پنجاب

    بھاٹی گیٹ کے واقعے اور قتل میں کوئی فرق نہیں، ہر سطح پر مجرمانہ فعل ہوا ہے: وزیرِ اعلیٰ پنجاب

    جنوری 30, 2026
    خاص خبریں

    وزیراعظم کا صنعتوں کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان

    جنوری 30, 2026
    خاص خبریں

    میانوالی: سی ٹی ڈی کا چھاپہ، 6 خطرناک دہشتگرد اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

    جنوری 30, 2026
    • Facebook
    • YouTube
    • Twitter
    • Instagram
    نمایاں خبریں
    جنوری 21, 2026

    مانسہرہ میں چیتے کا حملہ، کالج جانے والا نوجوان شدید زخمی

    خاص خبریں

    مانسہرہ اور اور آزاد کشمیر کے سنگم پر واقع برارکوٹ کے علاقے میں صبح کالج…

    خاص خبریں

    پنجاب بائیک سکیم: آن لائن رجسٹریشن کیسے کریں؟ مرحلہ وار گائیڈ چیک کریں

    اپریل 15, 2024
    خاص خبریں

    آزاد کشمیر میں برفباری سے جانی و مالی نقصان، 11 گھر مکمل تباہ

    جنوری 26, 2026
    ایڈیٹر کا انتخاب
    خاص خبریں

    پنجاب بائیک سکیم: آن لائن رجسٹریشن کیسے کریں؟ مرحلہ وار گائیڈ چیک کریں

    اپریل 15, 2024
    خاص خبریں

    پنجاب میں 50,000 گھروں کے لیے مفت سولر پینل! کیا آپ درخواست دینے کے اہل ہیں؟ یہاں چیک کریں!

    اپریل 16, 2024
    خاص خبریں

    ایبٹ آباد میں لاپتہ لیڈی ڈاکٹر وردہ کی لاش چار دن بعد برآمد، ڈاکٹروں کا احتجاج

    دسمبر 8, 2025
    مقبول خبریں
    صحت

    نیپاہ وائرس کا خدشہ، پاکستان میں مختلف اداروں کو الرٹ جاری

    جنوری 30, 2026
    پنجاب

    بھاٹی گیٹ کے واقعے اور قتل میں کوئی فرق نہیں، ہر سطح پر مجرمانہ فعل ہوا ہے: وزیرِ اعلیٰ پنجاب

    جنوری 30, 2026
    خاص خبریں

    وزیراعظم کا صنعتوں کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان

    جنوری 30, 2026

    نئے فالو اپ کے ساتھ

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

    .K2Times © 2026. All Rights Reserved

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.