امریکی خلائی ادارے ناسا نے بلیک ہول کے کنارے کی اب تک کی سب سے واضح اور تفصیلی تصویر جاری کر دی ہے جو بلیک ہولز سے متعلق کئی راز کھولنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
ناسا کے مطابق یہ عظیم الجثہ بلیک ہول زمین سے 1 کروڑ 30 لاکھ نوری برس کے فاصلے پر سرکنس کہکشاں میں واقع ہے اور مسلسل خلا میں شعاعیں خارج کر رہا ہے۔ اس کے گرد موجود گرم گیس کے بادل اتنے چمکدار ہیں کہ ماضی میں اس سے متعلق تفصیلات حاصل کرنا تقریباً ناممکن تھا۔
اب جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے ذریعے سائنس دانوں نے بلیک ہول کے کنارے موجود عجیب و غریب اور طاقتور فورسز کو عکسبند کیا ہے۔
مشاہدات کے مطابق یہ عظیم الجثہ بلیک ہول اطراف کی دیگر کہکشاؤں سے مسلسل مواد حاصل کر کے فعال رہتا ہے، اور اس عمل کے دوران بڑی مقدار میں انفرا ریڈ توانائی پیدا ہوتی ہے۔
ناسا نے بتایا کہ زیادہ تر ٹیلی اسکوپس اتنی حساس نہیں ہوتیں کہ یہ دیکھ سکیں کہ یہ شعاعیں کہاں سے آ رہی ہیں، لیکن جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے اب سائنس دان بلیک ہول کے گرد موجود پیچیدہ فورسز اور توانائی کی تفصیلات پر گہری نظر ڈال سکتے ہیں، جو بلیک ہولز کی فطرت اور کائنات میں ان کے کردار کو سمجھنے میں اہم ثابت ہوں گی۔


