برطانیہ کے ایوانِ بالا (ہاؤس آف لارڈز) نے بدھ کے روز 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے حق میں ووٹ دے دیا، جس سے حکومت پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ آسٹریلیا کی طرز پر قانون سازی کرے۔
یہ ترمیم اپوزیشن کنزرویٹو رکن جان نیش کی جانب سے پیش کی گئی تھی، جسے لیبر اور لبرل ڈیموکریٹ ارکان کی بھی حمایت حاصل تھی۔ ووٹنگ میں ترمیم 150 کے مقابلے میں 261 ووٹوں سے منظور ہوئی۔
جان نیش نے ووٹنگ کے بعد کہا کہ ایوانِ بالا نے بچوں کے مستقبل کو ترجیح دی ہے اور یہ فیصلہ سوشل میڈیا کے نوجوان نسل پر پڑنے والے منفی اثرات کو روکنے کے عمل کا آغاز ہے۔
وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اس معاملے پر کہا ہے کہ وہ کسی بھی آپشن کو خارج از امکان قرار نہیں دے رہے اور بچوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کا عزم رکھتے ہیں، تاہم حکومت گرمیوں میں متوقع مشاورت کے نتائج کے بعد قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔


